اینڈروئیڈ مارش میلو کے نئے زبردست فیچرز

اینڈروئیڈ مارش میلو کے نئے زبردست فیچرز

گوگل اینڈروئیڈ کا نیا ورژن سامنے آ چکا ہے۔ گوگل نے حسب روایت اس نئے ورژن کو بھی ایک میٹھی چیز سے منسوب کیا ہے۔ گزشتہ ورژن چونکہ L تھا اور اس کی مناسبت سے اس کا نام ’’لولی پاپ‘‘ رکھا گیا تھا اسی طرح اب کی بار M کی باری تھی تو نام ’’مارش میلو‘‘ (Marsh Mallow)منتخب کیا گیا ہے۔ مارش میلو اینڈروئیڈ کا چھٹا یعنی 6.0 ورژن ہے۔ یقیناً آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ نیا ورژن آپ تک کب پہنچے گا؟ تو یہ آپ کے اینڈروئیڈ اسمارٹ فون پر منحصر ہے کہ اس فون کو بنانے والی کمپنی کب یہ نیا ورژن اس کے لیے ریلیز کرتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح گوگل نیکسس فونز ہی سب سے پہلے اس نئے ورژن پر اپ گریڈ ہوں گے۔ اکثر کمپنیز نئے ورژن کی ریلیز کے 90 دن بعد کہیں جا کر اسے اپنے صارفین کے لیے ریلیز کرتی ہیں۔ مارش میلو تو دُور کی بات اینڈروئیڈ صارفین کی ایک بڑی تعداد تاحال اینڈروئیڈ لولی پاپ کا انتظار کر رہی ہے جو کہ قریباً دس مہینے پہلے ریلیز کیا گیا تھا۔ بہرحال اینڈروئیڈ مارش میلو میں کئی بہتریاں اور نئے فیچرز دیکھنے کو ملیں گے۔ بیٹری سے لے کر تھیم تک سبھی چیزوں پر کام کیا گیا ہے۔ آئیے آپ کو اینڈروئیڈ مارش میلو کے اہم فیچرز کے بارے میں بتاتے ہیں۔ ایپ پرمیشنز(App Permissions) جب آپ گوگل پلے اسٹور یا کہیں سے بھی کسی ایپلی کیشن کو انسٹال کرتے ہیں تو اُس ایپلی کیشن کو درکار چیزوں تک رسائی بھی دیتے ہیں۔ مثلاً کسی ایپلی کیشن کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ کیمرہ استعمال کر سکتی ہے یا پھر آپ کے… مزید »

بوڑھی انسانیت

کچھ عرصہ پہلے ہم دوست احباب علامہ اقبال کا آبائی گھر دیکھنے سیالکوٹ جا رہے تھے۔ دریائے چناب کا آدھے سے زیادہ پُل عبور کر چکے تو آگے ٹریفک جام تھی۔ حالات کا جائزہ لینے کے لئے گاڑی سے اترا۔ دیکھا کہ دس بارہ گاڑیاں ایک دوسرے میں سینگ پھنسائے کھڑی ہیں۔ صرف ایک بندے کی جلد بازی اور کوتاہی کی وجہ سے سارا مسئلہ بنا تھا۔ خیر دیکھتے ہی دیکھتے گاڑیوں کا جمگھٹا لگ گیا۔ ادھر کوئی ٹریفک وارڈن نہیں تھا جو معاملات سلجھاتا۔ ایسے میں مجھ سمیت کئی انجان لوگوں نے مل کر ٹریفک رواں کرنے کے لئے ایک ٹیم فوری تشکیل دے لی۔ پھر اپنے تئیں کوشش کر کے گاڑیوں کی ترتیب سیدھی کروانے لگے۔ لوگوں کو سمجھایا، ترلے کئے مگر کمبخت بات سمجھنے کی بجائے الٹا آنکھیں نکالتے۔ ہر کسی کو ایسے لگتا تھا کہ وہ جگہ جو خالی ہوئی ہے، اگر ادھر گھس جائے تو جلدی پہنچ جائے گا، ویسے بھی ایک کے گھسنے سے بھلا کیا فرق پڑے گا؟ لیکن ان کی اسی سوچ اور جلد بازی کی وجہ سے معاملات مزید خراب ہوتے گئے۔ شروع میں، گاڑی میں بیٹھے اپنے دوستوں کے پاس سے بھی گزرتا رہا اور انہوں نے مجھے کئی لوگوں سے بحث کرتے بھی دیکھا۔ تھوڑی دیر کے بعد سارے پل پر اور اس سے پیچھے بھی دور دور تک گاڑیاں ”دھاڑ نے“ لگیں۔ اتنی زیادہ گاڑیوں کا ایک ساتھ پُل پر وزن اور اوپر سے بڑی گاڑیوں کی تھرتھراہٹ سے ایسا شک بھی پڑتا کہ کہیں پُل ہی نا گر جائے۔ خیر اتنے بڑے ہجوم میں ٹریفک رواں کرنے میں ایسا مگن تھا کہ اپنے دوستوں سے بچھڑ گیا۔… مزید »

توجہ طلب اردو

کچھ مسائل ایسے ہوتے ہیں جو ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں لیکن ہوتے اہمیت کے حامل ہیں۔ ابھی عمار بھائی کے     بلاگ پر مطالعے اور ہمدرد کتابستان کے حوالے سے تحریر پڑھی تو خیال آیا کہ اسی قسم کے مسائل صرف لوگوں تک ہی نہیں خود اردو کو بھی پیش ہیں۔ مطالعہ تو خیر اب بہت ہی کم ہو گیا ہے یا اگر ہے تو اس حد تک کہ کہیں نظر پڑ گئی تو کوئی اقتباس پڑھ لیا یا پھر وہ ہیں جو ابھی زیرِ تعلیم ہیں اور اپنی کتابیں پڑھ لیتے ہیں۔ مطالعہ صرف امتحان پاس کرنے کے لئے ہی ضروری نہیں مطالعہ آپکی معلومات میں اضافے کا واحد ذریعہ ہے۔ آپ خود پڑھتے ہیں دوسروں کو بتاتے ہیں تو علم پھیلتا ہے۔ ہم پڑھنا ہی چھوڑ دیں تو کون کسے کیا بتائے اور کہاں تک معلومات ملیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری نئی نسل میں معلوماتِ عامہ کی کمی ہے۔ اردو کو جہاں لوکلائز کر کے اب تقریباً ہر جگہ پہنچا دیا گیا ہے وہیں اردو میں برقی کتب اور خاص کر وہ کتب جو برقی شکل میں موجود نہیں ترتیب دینا بہت ضروری ہو گیا ہے کیونکہ جیسا کہ عمار بھائی نے کہا کہ ہمدرد کتابستان کی کتابیں اب تریباً نا پید ہو گئی ہیں اور چونکہ ان کی پرنٹنگ اب بالکل ہی نہیں ہو رہی تو ایک دن یہ نہ ہو کہ ہمیں ان کی ضرورت پڑے اور ہم ڈھونڈتے رہ جائیں۔ اس مسئلے کا ایک حل تو یہی ہے کہ ہم لوگ جو وقت سوشل میڈیا پر ضائع کرتے ہیں اس کا تھوڑا سا حصہ نکال کر تمام کتب کو ایک… مزید »

پینتالیس سے صفر تک کا سفر

 وقت کتنی جلدی گزرتا ہے کسی ایسے شخص سے پوچھیں جو چھٹیاں گزارنے گھر آیا ہو یا کسی غیر محرم لڑکی سے ساتھ ہوٹل یا پارک میں۔ چونکہ صنف نازک کو مجھ سے علاقہ نہیں اور میرے علاقہ غیر میں ان کا گزر نہیں تو میں چھٹیوں کے بارے کماحقہ روشنی ڈال سکتا ہوں کہ گھر آنے سے پہلے الٹی گنتی چل رہی ہوتی ہے کہ باقی دس دن رہ گئے، چار دن رہ گئے۔۔۔ اور وہ الٹی گنتی گھر پہنچ کر اسٹاپ واچ سی اندھا دھند بھاگنے لگتی ہے کہ یار یہ کل آیا ہوں دو ماہ گزر گئے باقی چھ دن رہ گئے۔ اب گھر سے واپسی پر بندہ ویسے ہی بیزار ہوتا ہے تو جب چھوٹے تھے تو اچھے تھے کہ اسکول جاتے وقت پیٹ درد، سر درد، اسہال کا بہانہ مار کر چھٹی کر لیتے تھے یہاں جانے کا دل بھی نہیں ہوتا اور جانا بھی ہوتا ہے تو بس بندہ سرائیکی محاورے کے مطابق “تھوک لگے مکوڑے” کی مانند دوسروں کو خاٹتا پھر رہا ہوتا ہے اور ان کے ذمے لگ رہا ہے اور مجھے ذمے لگنے کے لیے میرے ٹکٹ کے ایجنٹ ملے۔ جتنی مجھے ترکش ائیر لائن ناپنسد ہے اتنی ہی میرے ایجنٹ صاحب کو ترکش ائیر لائن سے محبت ہے۔ ان کا بس چلے تو وہ دبئی کی ٹکٹ بھی براستہ استنبول بنا دیں ۔ لیکن خیر میں بھی ضد میں اتنا مشہور ہوں کہ ایک ٹیرھی دم والے چوپائے سے نسبت دیا جاتا رہا ہوں تو میں نے بھی جیسے تیسے کر کے قطر ائیر لائن کی ٹکٹ لے لی جس میں ایک تو وہی ترکش ائیر لائن والی نا پسندیدگی… مزید »

فیس بک کے بارے میں 15 دلچسپ باتیں

سو شل نیٹ ورکنگ کی سب سے مشہور ویب سا ئٹ فیس بک کی بہت سی حیران کر دینے والی باتیں جو لو گ عمو ماً نہیں جانتے ہوں گے، آئیے ہر دل عزیز ویب سائٹ فیس بک کے بارے میں ایسی پندرہ دلچسپ باتوں کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں۔ ایل پچینو (AL PACINO) فیس بک کا پہلا چہرہ یہ ایک نا قا بلِ یقین بات ہے کہ فیس بک کا پہلا چہرہ ایل پچینو تھے۔ 2007 تک کچھ وجو ہا ت کی بنا ء پر لو گ یہ ما نتے رہے کہ فیس بک کا پہلا چہرہ مارک زکربرگ(Mark Zuckerberg) تھے۔ چونکہ ایل پچینو کا انتہائی غیر معروف انداز استعمال کیا گیا تھا اس لیے لوگ یہ مانتے رہے کہ فیس بک کا پہلا چہرہ مارک زکربرگ اور اس کے دو ست اینڈ ر یو مکولم (Andrew McCollum)نے بنا یا ہے۔ فیس بک اکا ؤ نٹس کو ہیک کرنے کی رو زانہ ۶ لاکھ (600,000)کوششیں کی جاتی ہیں ہیکرز زیادہ تر اپنے ہی احباب اور دوستو ں کے اکاؤنٹس ہیک کرتے ہیں تا کہ ان کاغلط استعما ل کر سکیں یا پھر وہ اپنے دوستوں کے ساتھ مذا ق کرنے اور انہیں تنگ کرنے کے لیے بھی ایسا کرتے ہیں۔ 64 فیصد صا رف فیس بک کا روزانہ استعمال کرتے ہیں 2014میں منعقد ہونے والی پیو اِسٹڈی (Pew Study) کے مطا بق فیس بک کے ایک ارب سے زائد صا رفین میں سے 64فیصد روزا نہ فیس بک کا استعمال کرتے ہیں یعنی ایک دن میں 640 ملین (640 million)سے زائد لوگ اپنے فیس بک اکاؤنٹس کا دور ہ کرتے ہیں۔ ہر تین طلا قوں میں سے ایک… مزید »

کھلاڑی جو نئے سال میں سب کو حیران کردیں گے

سال 2015ء کرکٹ میں کیسا رہا، اچھا رہا یا برا، کون اپنی شاندار کارکردگی کے ذریعے چھایا رہا، ان سب پر بہت بات ہوگئی۔ اعداد و شمار کے گورکھ دھندے سے نکلتے ہیں اور توقعات، امکانات اور امیدوں کی دنیا میں آتے ہیں اور اندازہ لگاتے ہیں کہ وہ کون سے کھلاڑی ہیں جو 2016ء میں کرکٹ کے میدانوں میں تہلکہ مچا سکتے ہیں۔ وہ کون سے کھلاڑی ہیں جو نئے سال میں بتائیں گے کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ یقین سے کچھ کہنا تو بہت مشکل ہے لیکن حالیہ کارکردگی کی بنیاد پر کم از کم پانچ ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب ضرور کیا جا سکتا ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ ایک کھلاڑی نے تو ہماری تحریر لکھنے کے دوران ہی خود کو ثابت بھی کردیا۔ آئیے ان کھلاڑیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ سال پہلے پاکستان کرکٹ میں ایک دمکتے ستارے کی آمد ہوئی تھی، صرف 17 سال کے محمد عامر، جو آئے، انہوں نے دیکھا اور فتح کرلیا۔ کرکٹ میدانوں میں وہ ایسا چمکے کہ آنکھوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ اس عمر میں بھی بھلا کوئی اتنا اچھا کھیل پیش کر سکتا ہے؟ 14 ٹیسٹ میں 51 وکٹیں، 15 ایک روزہ میں 25 شکار اور 18 ٹی ٹوئنٹی میں 23 کھلاڑیوں کو میدان بدر کرنے والے عامر کی پرواز کا یہ محض آغاز تھا لیکن ابتدائی شہرت دیکھ کر وہ بہت گئے اور غلط راستے پر نکل پڑے۔ جس مقابلے میں انہوں نے اپنے کیریئر کی بہترین اور یادگار ترین باؤلنگ کی اسی مقابلے کے دوران یہ خبر سامنے آئی کہ محمد عامر اسپاٹ فکسنگ میں ملوث ہیں اور اس کے بعد… مزید »

نیا سال اور منانا

جس دور میں ہم پیدا ہوئے تب نیا سال منانے کا رواج نہ تھا- اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ پاکستان میں کسی کو روٹھے رشتہ داروں کو منانے سے فرصت ملے تو کچھ اور منائے- جب نیا سال آنے لگتا تو ہم صرف اس لیے پرجوش ہوجاتے کہ کاپیوں پر سال کے ہندسے بھی تبدیل ہوں گے اور ہم جو سارا سال محض دن اور ماہ لکھ کر کام چلایا کرتے تھے دسمبر میں سال بھی لکھنا شروع کردیتے۔ لیکن ہائے ری ہماری سادگی کہ جس بے تابی سے انتظار کیا کرتے اسی شدت سے فراموش بھی کر دیتے اور نئے سال کے پہلے پندرہ دن بدستور پچھلا سال ہی لکھے جاتے اور آخر تنگ آ کر دوبارہ دن اور ماہ پر لوٹ آتے۔ نیا سال کیا ادھراپنا  یہ حال ہے کہ کچھ سال پہلے تک کبھی ہم نے اپنی سالگرہ تک نہیں منائی اور اب بچے اپنے کیک کی لالچ میں ہماری سالگرہ منا لیتے ہیں اور ہمارے کیک پر پھونک بھی وہی مارتے ہیں ، چھری بھی وہی چلاتے ہیں بس ہمیں خوش کرنے کو ایک آدھ ٹکڑا عنایت کر دیتے ہیں اور ہم بھی سال بعد ایک تقریب کا دلہا نما بن کر خوش ہو لیتے ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر جو روز منائے جاتے ہیں اس کو منانے کا طریقہ موٹر سائیکل کے سلسنر نکال کر بھگانا، دوٹائروں والی شے ایک پر اور چار والی دو پر چلانے کی کوشش کرنا، دماغ کو حتی الوسیع آرام دینا، تمام اسلحہ کو سالانہ آزمائش سے گزارنا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ یہی پاکستانی جب باہر نکلتے ہیں تو یہ شوق ام الخبائث پی کر پورا… مزید »

مائیکروسافٹ نے پاکستان میں لومیا سیریز کے تین نئے فون متعارف کروا دیے

مائیکروسافٹ کی جانب سے حال ہی میں لومیا سیریز کے تین نئے فونز متعارف کروائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ گذشتہ روز لاہور کے ایک مقامی ہوٹل منعقد ہونے والی ایک تقریب کے دوران ٹیکنالوجی بلاگرز کو اس حوالے سے نئے سمارٹ فونز کا مختصر تعارف اور ونڈوز 10 کے نت نئےفیچرز کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ مائیکروسافٹ کی جانب سے متعارف کروائے جانے والے دو فلیگ شپ فونز لومیا 950 اور لومیا 950 ایکس ایل حاضرین کی توجہ کا مرکز بنے رہے۔ یہ دونوں فونز مائیکروسافٹ کے جدید ترین آپریٹنگ سسٹم ونڈوز 10 سے مزین ہیں۔ ان میں ہائی ڈیفینیشن سکرین کا استعمال کیا گیا ہے اور 20 میگا پکزل پیور ویو کیمرہ ٹرپل ایل ای ڈی فلیش لائٹ سے مزین ہے۔ لومیا سیریز کے ان نئے فونز میں سب سے منفرد فیچرز Continuum اور Iris Scan Technology ہیں۔ کانٹینم ٹیکنالوجی کی مدد سے آپ اپنے فون کو کسی بھی مانیٹر یا پروجیکٹر کے ساتھ کنکٹ کرکے اس بطور کمپیوٹر استعمال کرسکتے ہیں۔ جبکہ آئرس سکین ٹیکنالوجی اس وقت تک کی سب سے بہترین فون لاکنگ ٹیکنالوجی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی آپ کی آنکھوں کی پتلیوں کی بناوٹ محفوظ کرلیتی ہے اور پھر آپ اپنے فون کو محض دیکھنے پر ان لاک کرسکتے ہیں۔ فون ایک وقت میں 8 مختلف آئرس محفوظ کرسکتا ہے۔ گو کہ ان فونز کی حتمی قیمت کا تعین ابھی نہیں کیا گیا اور یہ مارکیٹ میں اگلے ماہ سے دستیاب ہونگے مگر اندازاً لومیا 950 کی قیمت 65 ہزار روپے جبکہ 950 ایکس ایل کی قیمت 70 ہزار روپے کے قریب ہوگی۔ ان دو فونز کے علاوہ تیسرا متعارف کروائے جانے والا فون… مزید »

آسٹریلیا کی ناقص ’اسپیڈ گن‘، ہیزل ووڈ کو دنیا کا تیز ترین باؤلر بنا دیا

تیز گیندبازوں سے ان کی پہلی دو خواہشات کے بارے میں دریافت کیا جائے تو جواب عموماً یہی ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ وکٹوں کا حصول اور تیز ترین گیند کا عالمی ریکارڈ۔ اگر آپ کی دونوں خواہشیں مکمل ہوں لیکن بعد میں معلوم ہو کہ دراصل آپ کے ساتھ دھوکا ہوا ہے تو غم کی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آسٹریلیا کے جوش ہیزل ووڈ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ ملبورن میں کھیلے گئے آسٹریلیا-ویسٹ انڈیز دوسرے ٹیسٹ کے تیسرے دن جب آسٹریلیا نے 179 رنز پر اننگز ڈکلیئر کرکے ویسٹ انڈیز کو دوبارہ کھیلنے کے لیے میدان میں اتارا تو دوسرے ہی اوور میں جوش ہیزل ووڈ کی ایک گیند نے سب کو چونکا دیا۔ ویسٹ انڈیز کے اوپننگ بلے باز راجندر چندریکا نے جس گیند کا سامنا کیا تھا وہ اسپیڈومیٹر پر 164.2 کلومیٹر یعنی 102 میل فی گھنٹہ کی رفتار دکھا رہی تھی۔ یعنی تاریخ کی تیز ترین گیند تھی۔ یہ ریکارڈ پاکستان کے شعیب اختر کے پاس ہے جنہوں نے 161.3 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گیند پھینکی تھی۔ اگر کوئی ایسا باؤلر گیند پھینکے تو یقین کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے جو عموماً 135 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے گیند پھینکتا ہے۔ اچانک 164.2 کی طوفانی رفتار؟ ضرور کوئی مسئلہ ہوا ہوگا۔ تحقیقات کی گئیں اور معلوم ہوا کہ گیند کے پیچھے ہیزل ووڈ کے جوش کا کمال نہیں بلکہ مشین کی خرابی کا مسئلہ تھا۔ اسپیڈ گن کی خرابی کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے ابھی رواں ماہ کے اوائل میں ہی نیوزی لینڈ اور سری لنکا کے درمیان دوسرے ٹیسٹ کے… مزید »

انٹرنیٹ پر تخلیقی مواد کی حفاظت اور چوروں کے خلاف کاروائی

جب ہم ترقی یافتہ ممالک کی کسی کمپنی یا فرد کے لئے کوئی سافٹ ویئر یا ویب سائیٹ بناتے ہیں تو وہ ہمیں یہ بات بڑی اچھی طرح باور کراتے ہیں کہ ہمارے ملک میں بڑا سخت ڈیجیٹل کاپی رائیٹ ایکٹ (Digital Copyright Act) ہے۔ اس لئے ایسی کوئی تحریر، تصویر یا کوڈ وغیرہ استعمال نہ کرنا، جو کاپی رائیٹ کے زمرے میں آتا ہو۔ یہ نہ ہو کہ کہیں کوئی لمبا چوڑا قانونی نوٹس بھیج دے۔ ترقی یافتہ ممالک کا یہ حال ہے، جبکہ دوسری طرف ہمارے ملک میں کاپی رائٹ (حقِ نقل و اشاعت) کا قانون تو ہے مگر اس پر شاید ہی عمل ہوتا ہو۔ اوپر سے ”ڈیجیٹل کاپی رائیٹ ایکٹ“ نام کی کوئی چیز کہیں نظر نہیں آ رہی۔ تخلیقی مواد کی چوری زوروشور سے جاری ہے۔ کوئی چھوٹی سی تحریر تو دور، لوگوں نے کتابوں کی کتابیں غیرقانونی طور پر سکین کر کے انٹرنیٹ پر اپلوڈ کر رکھی ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہمارے اکثر لوگ تو ”کاپی رائیٹ“ لفظ کا مطلب، قانون اور تو اور اس متعلق اخلاقیات تک نہیں جانتے۔ جب انہیں سمجھایا جائے تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹتا ہے۔ کاپی رائٹ، پیٹنٹ اور اس طرح کے دیگر قوانین تخلیق کار اور موجد وغیرہ کی محنت کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہوتے ہیں، تاکہ کوئی اس کی محنت چوری نہ کر سکے اور جس کا جو حق ہے، وہ اسے ملے۔ تخلیق، دریافت اور ایجاد میں فرق ہے اور ان کے قوانین مختلف ہیں۔ جیسے تخلیق پر کاپی رائیٹ ہوتا ہے، جو کہ تخلیق ہونے کے ساتھ ہی خود بخود لاگو ہو جاتا ہے۔ دریافت اور ایجاد پر پیٹنٹ (Patent) وغیرہ… مزید »